لولی گوسوامی کی نظمیں

نظم میں پوشیدہ معنی

 

ایک دن مجھے ایک ضدی، کھوجی

حجتی آدمی ملا

وہ ہر بیج کو پھوڑ کر دیکھ رہا تھا

کہ اس کے اندر کیا ہے

میں اسے آخر تک سمجھا نہیں پائی

کہ بیج کے اندر پیڑ ہوتے ہیں

٠٠٠

 

بزدلی کا گیت

 

یوں تو سب جیتنا ہی سیکھتے ہیں

لیکن تم ہارنا بھی سیکھنا

جب کوئی کہے رُکنا یا جانا تمہارا فیصلہ ہے

تب تم خود سے ہار کر رک جانا

 

یاد رکھنا کوئی انتظار کرے

تو لوٹ کر نہ آنے کے لیے تم آزاد نہیں

تمہاری آمد پر کسی کی راہ دیکھتی

نظر کی رونق ادھار ہے

 

کوئی کھانا دے تو بھوکے رہ جانے کے لیے

تم آزاد نہیں تمہاری ضد سے دبا دی گئی بھوک پر

کسی کے ہاتھوں میں بسنے والے ذائقے کی طمانیت ادھار ہے

 

کوئی بدن پرچیتھڑے دیکھ کر تمہارے لیے گرم پنکھوں کا لبادہ بُنے

تو ٹھنڈ میں مرجانے کے لیے تم آزاد نہیں

تمہارے ٹھنڈے ہوتے بدن پر کسی کے لمس کا تاپ ادھار ہے

 

روکنا اپنی اس  انا کو جو ہار جانے کے آڑے آتی ہے

سیکھنا کیسے اَنگُلی  مال *کی آنکھوں کی لال آگ ہار جاتی ہے

ایک گیانی کی معصوم آنکھوں کے ہمدرد پانی سے،دکھ

سمجھو  کہ اس میں صرف بدھ کی تو کرامت نہیں تھی

 

تم ایسے ہارنا کہ من لبالب بھرا لگے

اس گھڑے کی طرح جو پانی کی مسلسل دھار سے

ہار کر آخر کار بھر جاتا ہے

پھر کسی پیاسے کے سیراب ہوجانے تک

انتظار کرتا ہے پھر سے ہرائے جانے کے  لیے

 

جب تم ختم ہونا تو اس سندر کویتا کی طرح

جو ہر بار الگ کویتا کا بیج بن کر پھوٹتی ہے

دوردراز ملک کے کسی انجان پڑھنے والے کے من میں

نئے روپ میں پھر سے اپنے لکھے جانے کے لیے

 

ایسے بکھرنا جیسے کھیت بونے کے لیے کسان

مٹھی بھر کر بیج بکھیرتا ہے

لہلہاتی فصل کے تصور  میں وہ خود ہرا ہوجاتا ہے

تم فصل کی امید میں اس کا ہرا ہوتا چہرا دیکھنا

اس طرح بکھیرے جانے کے لیے تیار ہونا

 

جب سنکی جنگجوؤں کے ظالم ہاتھ

دنیا کی روپہلی سِلائی ادھیڑیں گے

ہرائے جانے کے افسوس کو ایک طرف کرکے تم

پریم کی چھوٹی سی سوئی سے دنیا کے ٹکڑے رفو کرنا

 

جب کوئی بھوک سے سوکھ کر مرجھائے بدن میں غذا کی طرح رِسے

سفید ہتھیلیوں میں خون کی گلابی  زیبائش کی جگہ بھر جائے

تب آتما کے دکھ سے پریم جذب کرنے کے لیے

اس کی بغل میں  گہری نیند سونا

 

*انگلی مال: گوتم بدھ کے زمانے کا ایک ڈاکو جو جنگل میں لوگوں کو لوٹ کر ان کی انگلیوں کا ہار بنا کر پہنا کرتا تھا،کہتے ہیں اسے گوتم بدھ کی وجہ سے گیان ملا اور ڈکیتی چھوڑ کر وہ راہ عرفان کا مسافر بنا۔

٠٠٠

 

انت میں

 

میں اس کے جسم میں ہلکے  دانتوں کے نشان سے بوتی رہی اپنا ہونا

اس کی  کپکپاہٹوں میں خواہش بن کر اُگتی رہی

 

اُس  کے جسم کو میں نے بوسوں کے  بہتے جھرنوں میں باندھ لیا

اپنے نہ ہونے میں اس کے ہونٹوں سے ہنسی بن کر جھڑتی رہی

 

یہ سب اس لیے کہ

ایک دن مجھے ٹوٹ کر اپنے ہی من پر

قبر کے پتھرسا گڑ جانا تھا

 

انکار کی ضدوں سے بنی سخت  اور بہت بڑی  دیواروں پر

اگنا تھایادوں کے غیر ضروری پیپل سا

 

پت جھڑ میں پیلے پتوں کا دھرم نبھاتے

شاخ سے یونہی جھڑ جانا تھا بے ساختہ

٠٠٠

 

بِن باتوں کی رات

 

تمہارے اندر جتنی نمی ہے

اتنے قدم ناپتی ہوں پانی کے اوپر

جتنا پتھر ہے تمہارے اندر

اتنا تراشتی ہوں اپنا من

 

خواہشوں کی جو ہری پتیاں بے وقت جھڑیں

وہ گلیں من کے بھیتر، اپنی ہی جڑوں کے پاس

کھاد پاکر اب کی جو خواہشیں پھلیں

وہ زیادہ گھنیری تھیں، ان کی بڑھت (بالیدگی) بھی

گزشتہ خواہشوں سے زیادہ چیمڑ تھی

 

تمہارا آنا سورج کا اگنا نہیں رہا کبھی

تم ہمیشہ گہراتی راتوں میں قندیل کی دھیمی لے بن کر آئے

تم سے بہتر کوئی نہیں جانتا

کہ مجھے چوندھیاتی روشنیاں پسند نہیں ہیں

 

میرا اندھیاروں میں گم ہوجانا آسان تھا

تمہاری کایا تھی جو اندھیرے میں

چراغ کی لو کی طرح جھلملاتی تھی

تمہاری موجودگی میں مجھے کوئی بھی پڑھ سکتا تھا

 

ایک بِن باتوں کی رات میں، میں نے دو باتیں جانیں:

ہم اس چِٹھی کو بار بار پڑھتے ہیں

جس میں وہ نہیں لکھا  ہوتا

جو ہم پڑھنا چاہتے ہیں

 

معافیوں کی درخواست اپنے سب سے خوبصورت رنگ میں نظم ہے

بھلے ہی آپ گناہوں میں شامل نہ ہوں

٠٠٠

 

چور دیوتا

 

دکھ کے سفید پریت سنسار کے کسی کونے میں

میرا پیچھا نہیں چھوڑتے ہیں

میں جہاں جاتی ہوں، وہ چور دیوتا کی طرح میرا پیچھا کرتے ہیں

 

میرے بچپن کے یہ گنوار چور دیوتا ایسے دیوتا نہیں تھے

جنہیں آپ سیاست کے لیے استعمال کر سکیں

شاید اس لیے بھی وہ گمنام رہے

 

چوردیوتا اکثر بے وقت یا برے وقت میں مرے ہوئے بچوں کے پریت ہوتے ہیں

جنہیں سادھ کر اس کام میں لگایا جاتا ہے

کہ اگر گھر سے کوئی سامان چوری ہوجائے

تو وہ چور کا پیچھا کریں

اسے ایسے خوف اور وہم میں مبتلا کردیں

کہ چور ڈر کر اپنے آپ سامان لوٹا دے

 

یہ پریت میرے بچپن سے ابھی تک میرے ساتھ ہیں

میں خوشی لکھنا چاہوں

وہ انگلیاں مروڑ کر دکھ لکھواتے ہیں

میں نعرے لگانے کے لیے چیخنا چاہتی ہوں

وہ گلا دبادیتے ہیں

میری حلق سے دہاڑیں مار کر روتی ہوئی عورتیں

اور مسلسل ستائے گئے آدمیوں کی چیخیں نکلتی ہیں

 

میں انہیں نہیں بھگا سکتی

میں نے چوری کیا ہے اپنا وجود اپنے ہی جیون سے

میں نے ہرے بھرے جنگلوں سے اپنے خرگوش جیسے من کو چُرا کر

اسے تیز خنجر سے چیر دیا تھا

اس کے خون سے میں شہری زندگی کا روزنامچہ لکھ رہی تھی

ایک دن میں نے یہ وجود ہی نہیں، اس کی یادیں بھی کھو دیں

اب میں چاہوں تب بھی چور دیوتا سے پیچھا نہیں چھڑا سکتی

وہ پریت اب ہر جگہ میرے ساتھ ہوتے ہیں

 

سگنلوں پر سوکھے کے مریض  کی شکل میں پھولے پیٹ کے ساتھ یہ پریت

مجھ سے غبارے خرید لینے کی ضد کرتے ہیں

میرے پاس پیسے نہیں ہیں، میں صرف اس لیے نہیں خریدتی

پھر بھی وہ سمجھتے ہیں کہ میں جھوٹ کہہ رہی ہوں

وہ میرا پیچھا کرنا شروع کرتے ہیں

ہر جگہ۔۔۔آفس، لائبریری، پارکنگ

 

الماری کے نیچے کی دھول جھاڑنے

لگ بھگ زمین سے سر جوڑے

میں جھاڑو اندر ڈالتی ہوں اور ان کی آنکھیں دِکھتی ہیں

بھورے،گچھے دار، روکھے بالوں کے بیچ

مجھے یاد نہیں آتا ہے

شاید میں نے ان کے حصے کا تیل بھی چُرایا ہے

وہ  کالے پیلے دانتوں کے ساتھ کِلکاری مارکر ہنستے ہیں

میں ڈر کر دیواروں سے گھرے کونے میں

گھٹنوں پر سر رکھے سہمی سی بیٹھ جاتی ہوں

٠٠٠

 

فن کی حمایت میں

 

گہرے پریم کی یادیں دیوار میں لگی پینٹنگ میں تراشی  گئی لہر کی طرح ہوتی ہیں۔آپ چاہیں تو اس مصور کو گالیاں دے سکتے ہیں ، جس نے تصویر بناکر اس لہر کو ہمیشہ کے لیے پینٹنگ میں قید کردیا۔بے شک، وہ ذمہ دار ہے۔۔لہر کی رفتار چھین کر اسے نری لکیر میں بدل دینے کے لیے۔پریم کو یاد میں بدل دینے کے لیے بھی کوئی تو ذمہ دار ہوتا ہی ہے، لیکن آپ آج اس لہر کی یاد کو دیکھ پارہے ہیں تو اسی مصور کی بدولت۔

 

نظم بھی ایسی ہی یادوں کی ایک تصویر ہے۔نظم کسی یاد کو پونچھ کر مٹادینے سے سو گنا بہتر انت ہے۔ایسے ہی کسی چیز کو اس کی نزدیک آتی ہوئی طے شدہ موت کے خلاف کسی ہنر کے ذریعے از سر نو تعمیر کرنا وقت کی ابدی زیادتیوں کے خلاف  فن کی جرات مندانہ عظیم بغاوت ہے۔

 

اب مہربان، یہ شکایت تو مت کیجیے کہ تصویر میں مصور نے اپنا تصور ملایا۔یہ اس کا فن تھا، جس نے صحیح ، غلط کے تعلق سے اتنے مباحث کو جنم دیا۔

 

ورنہ روز ہزاروں لہریں جنم لیتی ہیں، روز ہزاروں پریم مرتے ہیں۔

٠٠٠

 

نظم کی ان گنت تعبیریں ہیں

 

تمہیں چومنے سے پہلے اپنی ناک کی نوک سے میں

تمہاری ناک کی نوک دباتی ہوں

مجھے وہ دباؤ محسوس ہوتا ہے

جو نظم کا پہلا لفظ لکھنے سے پہلے

قلم کی نوک کاغذ پر ڈالتی ہے

تھوڑا جھجھکتا سا۔۔بے چین دباؤ

 

میں نے ماں کے پیر گنگنے پانی بھری تشتری میں ڈبو کر

خارش سے اگ آنے والےزخم پرانے ٹوتھ برش سے صاف کیے

ان پر پٹرولیم جیلی لگائی

اس کے چہرے پر محسوس ہوا سُکھ

گرم اور ملائم

جو ایک نظم پوری کرلینے پر ہوتا ہے

 

سردی کی ایک صبح دھوپ میں

پیروں پر بچے کو ننگا لٹا کر

میں نے اس پر سرسوں کا تیل ملا

اب وہ تھک کر ڈائری پر لیٹے قلم کی طرح بے فکر سورہا ہے

نظم جیسا ہی ہے اس کا معصوم گلابی چہرہ

مجھے بھروسہ ہے میرے شبد

اس کی پاکیزہ نیند کے بھیتر سانس لے رہے ہیں

٠٠٠

میری بھاشا

 

میرے الفاظ کو دیکھو

تو ایسا لگتا ہے کہ لوگوں کا بڑھتا

ریلا چلا جارہا ہے

 

کسی حرف نے دوسرے کے کندھے پر ہاتھ رکھا ہوا ہے

تو کوئی سر پر صافہ باندھے ہے

کسی نے دوسرے کا ہاتھ پکڑ رکھا ہے

تو کوئی قرینے سے گھونگھٹ اوڑھے ہے

 

کوئی حرف دوسرے حرف کی کمر پر

ہاتھ رکھ کر چل رہا ہے

تو کوئی ایک دم اکیلا جارہا ہے

 

کسی حرف کا پیٹ پھولا ہوا ہے

تو کسی کو پتلے دُبلے ہونے کا گمان ہے

 

ملے جلے پریوار کی طرح

اس زبان میں جہاں بہت سارے متحدہ حروف ہیں

وہیں اکیلے کا بھی اُتنا

ہی مان ہے

٠٠٠

 

قبرستان اور کسی جاچکے دوست کے بارے میں

 

قبرستان میں گھومتے ہوئے اکثر محسوس ہوتا ہے۔کیا یہ کوئی باغیچہ ہے، جسے اتنی ترتیب سے سجایا گیا ہے!

 

کیا ہر ایک تابوت ایک بیج ہے، جسے اتنی احتیاط سے گاڑا گیا ہے جیسے اس سے کوئی انکھوا پھوٹے گا۔موت بے رحم ہے، لیکن کتنی سُگھڑ ہے، اپنے ٹہلنے کے لیے باغیچے لگا رہی ہے۔

 

ایسے ہی کسی قبرستان میں گھومتے ہوئے مجھے تم یاد آئے اور مجھے یہ علم ہوا کہ:

 

ہم کسی کی بھی زندگی سے دو بار جاتے ہیں

ایک بار رشتے کی طرح ، دوسری بار خبر کی طرح

٠٠٠

 

کچھ پریم

 

کچھ پریم اچانک ختم ہوجاتے ہیں

حیرت کرنے کی مہلت دیے بغیر

اچانک ختم ہوجانے والی

سڑکوں کی طرح

 

کچھ ہیئرپِن ٹرنز کی طرح ہوتے ہیں

لگتا ہے، بس ختم ہوا سفر

لیکن ہر بار سڑک قلابازیاں کھاتی

ہنس کر آگے بڑھ جاتی ہے

٠٠٠

 

پنکھڑی کی ڈھال

 

ایشور کے آنسو کی دو بوندیں

آسمان سے ایک ساتھ زمین پر گریں

اس طرح ہم دونوں جنمے

ایشور سے ہم کبھی پوچھ نہیں پائے کہ

وہ اس کی خوشی کے آنسو تھے

یا دکھ کے؟

 

تم نے دوب کی دھار سے کاٹا پتھر

پنکھڑی کو ڈھال بناکر روک لیے کئی نشتر

تمہاری آنکھیں جیسے موچی کی آنکھیں تھیں

موچی ہزار پیروں کے بیچ وہ چال پہچان لیتا ہے

جس کی چپل ٹوٹی ہو

تم نے میرا ٹوٹا ہوا من پہچانا

 

ہم میں کبھی ٹکراؤ ہو، تو اتنا ہو

جتنا ایک چڑیا کی اڑان میں شامل

نزدیک اگے دو  پنکھوں میں ہوتا ہے

 

ایک گہرے بوسے کے دوران

دو پریمیوں کی زبانوں میں ہوتا ہے

 

تم سے مل کر میں نے جانا کہ

کوئی گھاؤ ہمیشہ گھاؤ نہیں رہنا چاہتا

وہ مرہم لگانے والے کی یاد میں

بدل جانا چاہتا ہے

٠٠٠

 

لولی گوسوامی 5 جنوری 1987 کو پیدا ہوئیں۔ان کا تعلق ہندوستان کی ریاست جھارکھنڈ کے ضلع دھنباد سے ہےاور فی الحال وہ بنگلور شہر میں مقیم ہیں۔ان کی ایک کتاب’پراچین بھارت میں ماتر ستااور یونِکتا'(قدیم بھارت میں مادرسری نظام اور جنسیت)شائع ہوچکی ہے۔اس پوسٹ میں موجودہ نظموں کا انتخاب ان کے نظموں کے مجموعے ‘اداسی میری ماتر بھاشا(مادری زبان) ہے’ اور  ہندی ویب سائٹ ‘سمالوچن’ پر شائع شدہ ان کی نظموں سے کیا گیا ہے۔

لولی گوسوامی نے بہت اطمینان سے ہندی نظم میں بالکل علیحدہ راستہ اور اسلوب اختیار کرتے ہوئے اپنی جگہ بنائی ہے۔یہ طمانیت ان کی نظموں کی زبان میں بھی نظر آجاتی ہے۔ان کے یہاں صرف موضوع کی ندرت ہی اہمیت نہیں رکھتی بلکہ وہ نظم کے معاملے میں حساس اور نازک بیانیے  کی ضرورت پر بھی زور دیتی ہیں۔ان کی نظموں کے تعلق سے مشہور ہندی شاعر گیت چتُرویدی نے کہا ہے کہ ‘جن نظم نگاروں نے ہندی کے سنجیدہ ادب پڑھنے والے سماج کا دھیان پچھلے کچھ  برسوں میں  اپنی طرف کھینچا ہے، لولی گوسوامی ان میں سے ایک ہیں۔’

news-1701

sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakin jp

yakinjp id

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

sabung ayam online

judi bola online

sabung ayam online

judi bola online

slot mahjong ways

slot mahjong

sabung ayam online

judi bola

live casino

sabung ayam online

judi bola

live casino

SGP Pools

slot mahjong

sabung ayam online

slot mahjong

118000646

118000647

118000648

118000649

118000650

118000651

118000652

118000653

118000654

118000655

118000656

118000657

118000658

118000659

118000660

118000661

118000662

118000663

118000664

118000665

118000666

118000667

118000668

118000669

118000670

118000671

118000672

118000673

118000674

118000675

118000676

118000677

118000678

118000679

118000680

118000681

118000682

118000683

118000684

118000685

118000686

118000687

118000688

118000689

118000690

118000691

118000692

118000693

118000694

118000695

118000696

118000697

118000698

118000699

118000700

118000701

118000702

118000703

118000704

118000705

118000706

118000707

118000708

118000709

118000710

118000711

118000712

118000713

118000714

118000715

118000716

118000717

118000718

118000719

118000720

128000681

128000682

128000683

128000684

128000685

128000686

128000687

128000688

128000689

128000690

128000691

128000692

128000693

128000694

128000695

128000710

128000711

128000712

128000713

128000714

128000715

128000716

128000717

128000718

128000719

128000720

128000721

128000722

128000723

128000724

128000725

128000726

128000727

128000728

128000729

128000730

128000731

128000732

128000733

128000734

128000735

128000736

128000737

128000738

128000739

128000740

138000421

138000422

138000423

138000424

138000425

138000426

138000427

138000428

138000429

138000430

138000431

138000432

138000433

138000434

138000435

138000431

138000432

138000433

138000434

138000435

138000436

138000437

138000438

138000439

138000440

138000441

138000442

138000443

138000444

138000445

138000446

138000447

138000448

138000449

138000450

138000451

138000452

138000453

138000454

138000455

138000456

138000457

138000458

138000459

138000460

208000361

208000362

208000363

208000364

208000365

208000366

208000367

208000368

208000369

208000370

208000386

208000387

208000388

208000389

208000390

208000391

208000392

208000393

208000394

208000395

208000396

208000397

208000398

208000399

208000400

208000401

208000402

208000403

208000404

208000405

208000406

208000407

208000408

208000409

208000410

208000411

208000412

208000413

208000414

208000415

208000416

208000417

208000418

208000419

208000420

208000421

208000422

208000423

208000424

208000425

208000426

208000427

208000428

208000429

208000430

228000051

228000052

228000053

228000054

228000055

228000056

228000057

228000058

228000059

228000060

228000061

228000062

228000063

228000064

228000065

228000066

228000067

228000068

228000069

228000070

228000071

228000072

228000073

228000074

228000075

228000076

228000077

228000078

228000079

228000080

228000081

228000082

228000083

228000084

228000085

238000211

238000212

238000213

238000214

238000215

238000216

238000217

238000218

238000219

238000220

238000221

238000222

238000223

238000224

238000225

238000226

238000227

238000228

238000229

238000230

news-1701
news-0801

yakinjp


sabung ayam online

yakinjp

yakinjp

rtp yakinjp

yakinjp

yakinjp

judi bola online

slot thailand

yakinjp

yakinjp

yakinjp

yakinjp

ayowin

mahjong ways

judi bola online

mahjong ways 2

JUDI BOLA ONLINE

maujp

maujp

sabung ayam online

maujp

maujp

maujp

maujp

sabung ayam online

mahjong ways slot

sbobet88

live casino online

Situs Agen Togel

MAUJP

118000021

118000022

118000023

118000024

118000025

118000026

118000027

118000028

118000029

118000030

118000031

118000032

118000033

118000034

118000035

118000036

118000037

118000038

118000039

118000040

118000041

118000042

118000043

118000044

118000045

118000046

118000047

118000048

118000049

118000050

128000021

128000022

128000023

128000024

128000025

128000026

128000027

128000028

128000029

128000030

128000031

128000032

128000033

128000034

128000035

128000036

128000037

128000038

128000039

128000040

128000041

128000042

128000043

128000044

128000045

128000046

128000047

128000048

128000049

128000050

138000021

138000022

138000023

138000024

138000025

138000026

138000027

138000028

138000029

138000030

138000031

138000032

138000033

138000034

138000035

138000036

138000037

138000038

138000039

138000040

138000041

138000042

138000043

138000044

138000045

138000046

138000047

138000048

138000049

138000050

148000026

148000027

148000028

148000029

148000030

148000031

148000032

148000033

148000034

148000035

148000036

148000037

148000038

148000039

148000040

148000041

148000042

148000043

148000044

148000045

148000046

148000047

148000048

148000049

148000050

148000051

148000052

148000053

148000054

148000055

148000056

148000057

148000058

148000059

148000060

148000061

148000062

148000063

148000064

148000065

148000066

148000067

148000068

148000069

148000070

158000041

158000042

158000043

158000044

158000045

158000046

158000047

158000048

158000049

158000050

158000051

158000052

158000053

158000054

158000055

158000056

158000057

158000058

158000059

158000060

158000061

158000062

158000063

158000064

158000065

158000066

158000067

158000068

158000069

158000070

168000011

168000012

168000013

168000014

168000015

168000016

168000017

168000018

168000019

168000020

168000021

168000022

168000023

168000024

168000025

168000026

168000027

168000028

168000029

168000030

168000031

168000032

168000033

168000034

168000035

168000036

168000037

168000038

168000039

168000040

178000036

178000037

178000038

178000039

178000040

178000041

178000042

178000043

178000044

178000045

178000046

178000047

178000048

178000049

178000050

178000051

178000052

178000053

178000054

178000055

178000056

178000057

178000058

178000059

178000060

178000061

178000062

178000063

178000064

178000065

188000141

188000142

188000143

188000144

188000145

188000146

188000147

188000148

188000149

188000150

188000151

188000152

188000153

188000154

188000155

188000156

188000157

188000158

188000159

188000160

188000161

188000162

188000163

188000164

188000165

188000166

188000167

188000168

188000169

188000170

198000031

198000032

198000033

198000034

198000035

198000036

198000037

198000038

198000039

198000040

198000041

198000042

198000043

198000044

198000045

198000046

198000047

198000048

198000049

198000050

198000051

198000052

198000053

198000054

198000055

198000056

198000057

198000058

198000059

198000060

218000021

218000022

218000023

218000024

218000025

218000026

218000027

218000028

218000029

218000030

218000031

218000032

218000033

218000034

218000035

218000036

218000037

218000038

218000039

218000040

218000041

218000042

218000043

218000044

218000045

218000046

218000047

218000048

218000049

218000050

228000016

228000017

228000018

228000019

228000020

228000021

228000022

228000023

228000024

228000025

228000026

228000027

228000028

228000029

228000030

228000031

228000032

228000033

228000034

228000035

228000036

228000037

228000038

228000039

228000040

228000041

228000042

228000043

228000044

228000045

228000046

228000047

228000048

228000049

228000050

238000001

238000002

238000003

238000004

238000005

238000006

238000007

238000008

238000009

238000010

238000011

238000012

238000013

238000014

238000015

238000016

238000017

238000018

238000019

238000020

news-0801